’ دلکش فلکیاتی منظر‘، سالانہ لائرڈ شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر، یہ ہوتا کیا ہے؟

واشنگٹن میں آسمان کا نظارہ کرنے والوں کے لیے اس ہفتے ایک دلکش فلکیاتی منظر متوقع ہے، کیونکہ سالانہ لائرڈ شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے، جس کے دوران رات کے آسمان پر روشن ٹوٹتے ستارے دکھائی دیں گے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق لائرڈ میٹیور شاور قدیم ترین ریکارڈ شدہ شہابیوں کی بارشوں میں سے ایک ہے، جس کا ذکر 687 قبل مسیح میں چین میں بھی ملتا ہے۔ یہ بارش تیز رفتار اور روشن شہابیوں کے لیے جانی جاتی ہے، اور صاف آسمان کی صورت میں فی گھنٹہ 10 سے 20 شہابِ ثاقب دیکھے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض برسوں میں اس کی شدت میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آتا ہے، جہاں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 100 فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، اور بعض اوقات ایسے روشن شہاب بھی نظر آتے ہیں جو سیارہ زہرہ سے بھی زیادہ چمکدار ہوتے ہیں۔
اس سال اس کا عروج منگل 21 اپریل کی رات تقریباً 10 بجے سے شروع ہو کر بدھ 22 اپریل کی صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف برج لیرا پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے پورے آسمان کا مشاہدہ کرنا زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ شہاب کسی بھی سمت سے نمودار ہو سکتے ہیں۔ بہتر نظارے کے لیے مشورہ دیا گیا ہے کہ کھلی جگہ پر سیدھا لیٹ کر مشرق کی سمت رخ کیا جائے اور آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے دیا جائے۔
صاف موسم اور کم روشنی والی جگہیں اس دلکش فلکیاتی مظہر کو دیکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوں گی۔