بحیرۂ کیسپین کے ذریعے روس ایران کو خفیہ طور پر اسلحہ کیسے سپلائی کر رہا ہے؟

اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ طویل بھی ہو جائے تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ہتھیار آسانی سے ختم نہیں ہوں گے، کیونکہ روس خفیہ طور پر اسلحہ فراہم کر سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بحیرۂ کیسپین، جو دنیا کی سب سے بڑی جھیل بھی کہلاتا ہے اور اس کے گرد پانچ ممالک واقع ہیں۔ ایران، آذربائیجان، قازقستان، ترکمانستان اور روس۔ اس سمندر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں صرف انہی پانچ ممالک کو فوجی موجودگی کی اجازت ہے، جب کہ امریکا یا نیٹو افواج کو اس میں رسائی حاصل نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وہ خلا ہے جسے ایران اور روس ایک اسٹریٹجک راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس راستے کے ذریعے ہتھیاروں کی ترسیل کرتے ہیں، جہاں نہ مؤثر نگرانی موجود ہے اور نہ ہی کسی بیرونی مداخلت کا امکان۔
اسی راستے کے ذریعے ایران کو ایس-300 فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کیا گیا تھا۔ مزید برآں، 2023 میں ایران نے یوکرین جنگ کے دوران روس کو بڑی مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ فراہم کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ راستہ محض تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک خفیہ عسکری زون کی حیثیت بھی رکھتا ہے، جہاں روس اور ایران عالمی توجہ سے دور اپنی بحری موجودگی برقرار رکھتے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ 2015 میں اس وقت ہوا جب روسی جنگی جہازوں نے اسی علاقے سے شام میں اہداف پر کروز میزائل داغے۔
موجودہ صورتحال میں اگر ایران کے ہتھیار کم بھی ہو جائیں تو امکان ہے کہ روس اس خفیہ راستے کے ذریعے سپلائی جاری رکھے، جس میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کبھی زمینی کارروائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نہ صرف ایران کی سرحدوں بلکہ ایک ایسے خفیہ اور محفوظ سپلائی نیٹ ورک کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جو بحیرۂ کیسپین کے ذریعے چل رہا ہے اور اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔